ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مسلسل حراست میں رکھنے کے بعد بری کرنے پر سپریم کورٹ نے اسے قرار دیا سنگین ناانصافی، کہا؛سرکار ضمانت پر قانون لاۓ

مسلسل حراست میں رکھنے کے بعد بری کرنے پر سپریم کورٹ نے اسے قرار دیا سنگین ناانصافی، کہا؛سرکار ضمانت پر قانون لاۓ

Wed, 13 Jul 2022 22:15:13    S.O. News Service

نئی دہلی 15 جولائی (ایس او نیوز): سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ جانچ ایجنسیوں کی طرف سے ملزمین کو ‘غیر ضروری طور پر' گرفتار کرنے سے روکنے کے لیے وہ ایک قانون بنائے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ مسلسل قیدوبند کے بعدپھر کسی قیدی کو حتمی طور پر بری کر دیناسنگین ناانصافی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے مرکزی حکومت سے کہا کہ اسے ضمانت کے معاملات کو آسان بنانے کے لیے علیحدہ ضمانتی قانون بنانے پر غور کرنا چاہیے۔

عدالت نے کہا کہ بے تحاشہ گرفتاریاں نوآبادیاتی ذہنیت کی علامت ہیں اور یہ ‘ایک پولیس راج’ کے ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ستیندر کمار انتل بنام سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن کیس میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس سنجے کشن کول اور جسٹس ایم ایم سندریش نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ،ہندوستان کی جیلیں زیر سماعت قیدیوں سے بھری پڑی ہیں۔

عدالت نے کہا کہ ضمانت ایک اصول ہے اور جیل ایک استثنیٰ، اس لئے ضمانت دینے کے عمل کو آسان بنانے کے لیے حکومت ’بیل ایکٹ’ جیسا کچھ بنانے پر غور کر سکتی ہے۔

سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو یہ سفارش ملک کی جیلوں میں قیدیوں کی زیادہ بھیڑ کو دیکھتے ہوئے کی ہے جس میں دو تہائی سے زیادہ زیر سماعت قیدی ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے یہ بھی کہا کہ ضمانت کی درخواستوں کا فیصلہ دو ہفتوں کے اندر اور پیشگی ضمانت کی درخواستوں پر چھ ہفتوں میں فیصلہ کیا جانا چاہئے، جب تک کہ قوانین خاص طور پر اس سے منع نہ کریں۔ بنچ نے کہا کہ ہندوستان میں مجرمانہ مقدمات میں سزا کی شرح انتہائی کم ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ یہ عنصر ضمانت کی درخواستوں کا فیصلہ کرتے وقت عدالت کے ذہن پر منفی بوجھ ڈالتا ہے۔ عدالتوں کا موقف ہے کہ ضمانت کی درخواستوں پر سختی سے فیصلہ کرنا ہوگا کیونکہ سزا کا امکان انتہائی کم ہے۔ یہ قانونی اصولوں کے خلاف ہے۔ بنچ نے کہا کہ ضمانت کی درخواستوں پر غور کرتے ہوئے، ہم اس بات کو نہیں ملا سکتے کہ کس کا کیس قابل سزا نہیں ہے اور کس کا فیصلہ ٹرائل کے ذریعے ممکن ہے۔ اس کے برعکس، مسلسل نظر بندی کے بعد بالآخر بری ہونا ‘سنگین ناانصافی’ کا معاملہ ہوگا۔

عدالت نے کہا کہ زیادہ تر مسائل غیر ضروری گرفتاریوں کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں، جو سی آر پی سی کی دفعہ 41 اور 41 (اے) اور ارنیش کمار کے فیصلے میں جاری کردہ رہنما خطوط کی خلاف ورزی ہے۔

یاد رہے کہ دفعہ 41  میں ان حالات کا ذکر کیا گیا ہے جب پولیس کسی شخص کو بغیر وارنٹ کے گرفتار کر سکتی ہے، جبکہ دفعہ 41 (اے) میں کسی شخص کو گرفتار کرنے کے بجائے نوٹس دینے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ یہ یقینی طور پر تفتیشی ایجنسیوں کی جانب سے نوآبادیاتی ہندوستان کی ذہنیت کی طرف اشارہ کرتی ہے، جو اس حقیقت کو نظر انداز کرتے ہیں کہ گرفتاری ایک سخت قدم ہے جو آزادی کا گلا گھونٹتی ہے اس لیے گرفتاری سے گریز کیا جانا چاہیے۔


Share: